سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا،تحریر: انصار مدنی

عمر چیمہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’ سردجنگ کے زمانے میں ایک روسی جاسوس امریکی ایجنٹ تھا جس کا کام امریکہ کو اطلاعات فراہم کرنا نہیں بلکہ نااہل لوگوں کے ریکارڈ میں ردوبدل کرکے سرفہرست لانا تھا تاکہ انکی کلیدی عہدوں پر تعیناتی ہوسکے اس کے نتیجے میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا‘‘ جی ہاں اس ٹویٹ کے پس منظر میں ایک ایسی حقیقت پوشیدہ ہے جسے اہلِ علم، اہلِ بصیرت اور فرض شناس عہددار سمجھ سکتے ہیں مذکورہ ٹویٹ کی روشنی میں ہم یہ درخواست کرسکتے ہیں کہ HEC میں تعینات محبِ وطن افسران بالخصوص اور پاکستان کے مقتدر حلقوں میں صاحبِ اختیار افسران بالعموم عبرت حاصل کریں اور اپنے باوقار اداروں میں براجمان نااہل، چاپلوس اور ناتجربہ کار لوگوں پرنظرِ ثانی کریں کہیں ایسانہ ہو کہ وہ بھی سردِ جنگ میں پنپنے والی اس جاسوس کہانی کا کردار بن کر اداروں کی تباہی کا باعث بنیں۔
کہتے ہیں کہ KGB کے ایک میجر کو حکم ملا کہ وہ اپنے سینئر آفیسر کی نگرانی کریں جس کے بارے میں یہ یقین ہے کہ وہ C IA کے لیے کام کررہے ہیں، میجر اس جاسوس کو پکڑنے کے لیے اپنے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے رہے وہ ناکام رہے، اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے وہ دونوں ریٹائر ہوگئے۔ یوں یہ الزام قصہ پارینہ بن کردفتری کاغذات میں دفن ہوا۔ ایک دن یہ ریٹائر میجرروس کے کسی گاؤں سے گزر رہا تھا ، وہاں اس نے اپنے اس سینئر آفیسر کی name plate دیکھی جو ایک عالی شان مکان کے مین دروازے پر آویزاں تھی۔ اس تختی کو دیکھ کر انہیں پرانی یادیں تازہ ہوگئی، وہ اس الزمات کو ثابت کرنے کے لیے وہ دن رات محنت کررہے تھے مگر انہیں اپنی مدتِ ملازمت میں کامیابی نہیں ملی تھی، البتہ اس عرصے میں وہ اپنے سینئر آفیسر کے دوستوں میں شامل ہوئے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دونوں نجی مصروفیات کی وجہ سے ایک دوسرے سے نہیں مل پائے تھے آج قدرت نے انہیں یہ موقع فراہم کیا تھا، وہ اپنی گاڑی سے اترے بیل بجائی، چوکیدار سے تصدیق کے بعد ملنے کی خواہش ظاہر کی، ملاقات ہوئی ، اسی دوران میجر نے پوچھا سر! اب تو ہم دونوں اپنی ذمہ داریوں سے سبق دوش ہوچکے ہیں مزید کتنے دن زندہ رہیں گے نہیں معلوم، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس راز سے پردہ اٹھائیں جس کے حصول کے لیے میں اتنے عرصے آپ کے پیچھے بھاگتا رہا۔اس وقت ہمیں اس بات پر یقین تھا کہ آپ CIA کے لیے جاسوسی کررہے ہیں مگر ہم ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ آخر وہ کیا کام تھا جو آپ CIA کے لیے انجام دیتے تھے ؟ اس غیرمتوقع سوال پر وہ چونک گئے،
پھرمسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے کوئی راز یہاں سے وہاں منتقل نہیں کیے اور نہ میں جاسوسی کررہا تھا، البتہ ان دنوں جب میں آرمی کے لیے باصلاحیت نوجوانوں کو بھرتی کررہا تھا، میرے بچپن کا ایک دوست آیا، مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اتنے دنوں بعد ان سے میری ملاقات ہورہی ہے، دوران گفتگو وہ کہنے لگے یار تم اتنے اہم منصب پر فائز ہوکم ازکم اپنے دوست پر اتنا تو احسان کریں کہ میرے کچھ جاننے والے ہیں وہ ہمیشہ میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ آپ کا دوست اتنے اہم منصب پر فائز ہیں ان سے کہہ کر ہمارے چند جوان آرمی میں بھرتی کرادیں۔ بحیثیت دوست میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں یہ نوجوان غریب، نااہل، نکمے، سست، غافل ضرور ہیں مگر آپ کی مہربانی سے جب وہ بھرتی ہونگے تو ضرور محنت کریں گے ،
ان کے خاندان والے خوشحال ہونگے، ظاہر ہے اس کارِ خیرمیں شامل ہونے کے لیے میں بھی آپ کا ہاتھ بٹاؤں گا، اپنے دوست کو خوشحال رکھوں گا۔ بچپن کے دوست کی اس معصومانہ خواہش کے احترام میں چند نااہل، نکمے، موقع پرست، بیرروزگارنوجوانوں کو میں نے بھرتی کیا تھا بس۔ میجر کی جاسوسی حس بیدار ہوئی اور سمجھ گیا کہ ان نااہل اور ناتجربہ کار آفیسروں نے اپنے اردگرد مزید نااہل، نکمے اور ناتجربہ کار آفیسروں کواکھٹا کیاہوگا اور یہ سلسلہ آگے سے آگے بڑھتا گیا ہوگا، اب بچتانا کیا جب چڑیا چک گئی کھیت، محاورے کی مانند وہ آفیسر کفِ افسوس ملتے رہے کہ کاش اس وقت میں اس جانب متوجہ ہوتا تو نااہل ، ناتجربہ کار، کاہل، نکمے اور سست آفیسروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا اور ہم بہت بڑے نقصان سے بچ جاتے۔ اسی تناظر میں آج کل ہم پاکستانی جامعات کی نمائندہ تنظیم APUBTA کو معزز اساتذہ کرم کے جائز حقوق کے لیے کبھی شاہراؤں پر، کبھی معزز ایوانوں کے باہر احتجاج کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، افسوس ہوتا ہےاور ہماری یہ تمنا ہوتی ہے کہ کاش اے کاش یہ سب کچھ نہیں ہوتا جو ریسرچ کے نام پر پاکستانی جامعات کے محققین کی تحقیقات باعثِ ذلت بن رہی ہیں اور مختلف رپورٹیں چھپ رہی ہیں کہ فلاں فلاں یونیورسٹی کے نوازے گئے لوگوں کی وجہ سے جامعات کی عزت ووقار میں دن بدن کمی آرہی ہے، اساتذہ نالاں ہیں، طلبہ اپنے حقوق سے محروم ہیں، مصنوعی اور بلاوجہ تحقیقی مضامین کی مد میں جامعات کو مالی خسارے کی طرف دھکیلا جارہا ہے،
جن اساتذہ کی مشفقانہ محنت کے سہارے وہ لوگ کچھ لکھنے پڑھنے کے قابل ہوئے تھے اچانک انہیں خیال آیا کہ وہ تو محققین کے صف میں شامل ہوچکے ہیں اس لیے انہوں نے ادھر ادھرسے لوگوں کے مضامین چراکر اپنے نام پر چھپوایا ہوا ہے اور ان چرائے گئے مضامین کی بنیاد پر ترقی پاچکے ہیں آج بدقسمتی سے یہ لوگ صاحبِ اختیار لوگوں میں شامل ہیں
اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ بھی سوچتے ہیں، لکھتے ہیں، ترقی کررہے ہیں،جب کہ انہیں اس منصب پر فائز کرانے والے، اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کی خاطر،انہیں عدل وانصاف کے بنیادی فلسفہ سے دور رکھا ہے، انہیں دوسرے معزز اساتذہ کرام کے حقوق کو غضب کرنے کے لیے استعمال کیا کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے دن بدن اداروں کا بیڑہ غرق ہورہا ہے اور عوام میں یہ ادارے اور افراد اپنااعتماد کھو رہے ہیں، مسندِ متروکہ پر فائز یہ کم ظرف لوگ فی الحال مزے میں ہیں، کیونکہ انہوں نے ہرے عینک لگا کراس گدھے کی طرح سوکھی گھاس کھانے میں مصروف ہیں جو انہیں ہری ہری دیکھائی دیتی ہے،
انہیں خیال تب آئے گا جب کارِ پیغمبری سے جڑے ہوئے مشفق ومہربان اساتذہ کے بجائے کارِ بوجہلی کے تربیت یافتہ صفاتِ رزیلہ سے مزین استاد نما لوگ مستقبل کے معماروں کی تربیت پر معمور ہونگے اور ان تربیت پانے والوں میں ان کی اپنی اولاد بھی شامل ہوگی بقولِ شاعر:چلتے ہیں دبے پاؤں کوئی جاگ نہ جائےغلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہےہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجااس قوم کا حاکم ہی فقط اس کی سزا ہے












