تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع ہنزہ

وادی ہنزہ کی 1400 سال پرانی بستی میں خاص بات کیا ہے؟

بستی کی بھرپور تاریخی ثقافتی اہمیت اور اس کے دلکش فن تعمیر نے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیا ہے۔ مقامی لوگ آج بھی اپنے بزرگوں کی نشانیاں زندہ رکھے ہوئے ہیں, یہ قدیم ترین آبادی جو 1400 سال پرانی تاریخ رکھتی ہے، ہنزہ گنش کی اس آبادی کو قلعہ بند گاؤں بھی کہا جاتا ہے۔

پرانے وقتوں میں قبائل آپس میں لڑتے تھے، اس لیے کھلی آبادیاں نہیں ہوتی تھیں چنانچہ جنگوں سے محفوظ رہنے کے لیے گنش کے لوگوں نے قلعہ نما مکان تعمیر کیے۔

وادی ہنزہ کی اس قدیم آبادی کے ثقافتی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے بہت سارے سیاح یہاں آکر خوش دکھائی دیتے ہیں۔

گاؤں کے رہائشی شبیر نے بتایا کہ اس کو ہنزہ کی سب سے پہلی آبادی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ بند گاؤں ہے یعنی شروع میں قبائل ایک دوسرے پر حملے کیا کرتے تھے۔ جہالت کا دور تھا۔ اس زمانے میں کسی کھلی جگہ میں گھر بنا کے رہنا انتہائی غیر محفوظ تھا اس لیے لوگوں نے مناسب سمجھا کہ وادی ہنزہ کی گنش کو قلعہ بند کیا جائے۔

یہ قدیم بستی سیاحوں کے لیے ایسا مقام بن گئی جس کی سیر لازم سمجھی جاتی ہے ۔ یہ خطے کے بھرپور ثقافتی ماضی کی منفرد جھلک پیش کرتی ہے، ہرسال بڑی تعداد میں سیاح اس آبادی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

مقامی شخص نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کے فورٹس کی طرح اگر اس آبادی کو اور اس اثاثے کو محفوظ بنانے اور اس کی حفاظت کے لیے گورنمنٹ اقدامات کرے تو یہ پرانے گھر ایک ورثے کے طور پر محفوظ رکھے جاسکتے ہیں۔

گورنمنٹ کی عدم توجہی کے باعث فن تعمیر کے شاہکار یہ گھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ان کے مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں، اس لیے انہیں ہنگامی بنیادوں پر محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button