تازہ ترین
ضلع گلگت

26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کے اہم نکات

چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال کرنے کی تجویز آئینی بینچز کے قیام سے متعلق آرٹیکل 191 اے کا اضافہ – سپریم کورٹ میں ایک سے زیادہ آئینی بینچز بنائے جا سکیں گے، تجویز

آئینی بینچز جوڈیشل کمیشن کی نامزدگی پر بنائے جائیں گے، تجویز- آئینی بینچز کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، تجویز- آئینی بینچز کے فیصلوں پر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق نہیں ہو گا، تجویز- ایک آئینی بینچ میں کم از کم 5 ججز ہوں گے، 3 سینئر ترین ججز کی کمیٹی نامزد کرے گی –

سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی خصوصی بینچ کرے گا، چیف جسٹس سربراہ ہوں گے – کابینہ کی صدر یا وزیراعظم کو بھیجی گئی سفارشات کے متعلق کوئی عدالت نہیں پوچھ سکے گی، مجوزہ ترمیم- آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کر کے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجویز- جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے 4 سینئیر ترین جج شامل کرنے کی تجویز

وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کا نامزد وکیل جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے، مجوزہ ترمیم- جوڈیشل کمیشن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دو، دو ارکان شامل کرنے کی بھی تجویز – نئے مسودے میں ایک بار پھر آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز – جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔ تجویز – آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے، تجویز

آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار ائینی بینچز کے پاس ہوگا۔ تجویز – آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button