تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
پاکستان

ایس سی او اجلاس، جڑواں شہروں سے متعلق اہم فیصلہ

پاکستان آئندہ ہفتے ایس سی او کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے اس موقع پر جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی سے متعلق اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کا میزبان ہے۔ یہ اجلاس آئندہ ہفتے 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں تمام رکن (8) ممالک سے وفود شرکت کریں گے۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر بھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان نے سیکیورٹی کے خاص انتظامات کیے ہیں۔

ایس سی او اجلاس کے پیش نظر ہی اب جڑواں شہروں راولپندی اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس 14 سے 17 اکتوبر تک معطل رہے گی اور تمام اسٹیشن بند رہیں گے۔

اس سے قبل ضلع اسلام آباد اور پنڈی کے سرکاری اداروں کے علاوہ تعلیمی اداروں میں بھی تین روز کی تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے جب کہ اس دوران دکانیں، مارکیٹیں اور شادی ہال بھی بند رکھے جائیں گے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائے جانے پر 15 اکتوبر کو اسلام آباد آنے اور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کو چین، روس، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان، قازقستان نے مل کر قائم کیا تھا، بعد ازاں 10 جولائی 2015 کو اس تنظیم میں پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کیا گیا جب کہ ایران گزشتہ سال اس کا مکمل ممبر بنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button