تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
Uncategorized

گلگت بلتستان حکومت نے کے ٹو کے پرمٹ فیس میں اضافہ کر دیا

گلگت بلتستان کی حکومت نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر چڑھنے کے لیے پرمٹ فیس اور ضوابط میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔گلگت بلتستان سیاحت، کھیل، ثقافت، آثار قدیمہ اور میوزیم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کے ٹو پر چڑھنے کے لئے پرمٹ فیس گرمی کے موسم (اپریل سے ستمبر) میں 5000 ڈالر، خزاں (اکتوبر سے نومبر) میں 2500 ڈالر اور سرما (دسمبر سے مارچ) میں 1500 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

جبکہ پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیے یہ فیس گرمی کے موسم میں 1 لاکھ روپے، خزاں میں 50 ہزار روپے اور سرما میں 30 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کوہ پیما ایک چوٹی پر ایک اجازت نامے کے تحت چڑھ سکتے ہیں، ایک گروپ کی تعداد 20 سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ہائی ایلٹیٹیوٹ پورٹرز کو 2 ملین روپے تک کا انشورنس کروایا جائے گا، جبکہ لو ایلٹیٹیوٹ پورٹرز کو 1 ملین روپے تک کا انشورنس کروایا جائے- ماحولیاتی فیس جی بی ایڈونچر ٹورازم اکاؤنٹ میں جمع کروائی جائے گی۔نوٹیفیکشن کے مطابق یہ تبدیلیاں،قواعد و ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button