تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
Uncategorized

سب سے زیادہ افسوس بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کردارپر ہے، اسد قیصر

پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ افسوس بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کردار ہے۔

پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم بل پر وزیر قانون خود فرما رہے تھے کہ میرے پاس کوئی دستاویز نہیں، حکومت کے نمائندوں کے پاس ترمیم بل کا ڈرافٹ نہیں تو بتائیں یہ نسخہ کہاں سے آیا۔ بلاول بھٹو کو سب علم ہے ان کے پاس پورا ڈرافٹ ہے۔ اس معاملے پر سب سے زیادہ افسوس بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کردار پر ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا آرٹیکل 8 اور 99 میں ترامیم کی تجویز نہیں دی تھی۔ آئینی ترامیم 25 کروڑ عوام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کیا ہفتے اور اتوار کی چھٹی والے دن آئینی ترامیم لانے کی کوشش چوری اور ڈاکا نہیں۔ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کیا اس ملک کے دشمن ہیں؟ ہم چاہتے ہیں جوڈیشل ریفارمز آئیں ملک کیلیے بہتری ہو۔ پارلیمنٹ میں بحث کرائیں اور بار ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، پارلیمنٹ کو مضبوط اور رول آف لا کو ویلکم کریں گے لیکن کسی طور آپ کی دھونس اور دھمکمی نہیں آئیں گے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے چوک چوراہوں پر لڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ وکلا تنظیموں سے کہتا ہوں کہ عدلیہ پر وار ہو رہا ہے۔ یہ اس قسم کی قانون سازی کریں گے تو ہم مزاحمت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں جتنا جھوٹ بولا یہ تاریخ ہے۔ ہم سجھتے ہیں اس پارلیمنٹ کے پاس اخلاقی جواز نہیں۔ ہمارے 7 لوگوں کو اغوا کر کے انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس ظلم ذلت اور ڈنڈے کے زور پر پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہتر موت ہے۔ ہم رول آف لا اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں چوری سے قانون سازی کو کسی صورت نہیں مانیں گے۔

اسد قیصر نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی اور اس کو ربڑ اسٹیمپ کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ پارلیمنٹ کو جس طرح مذاق بنایا گیا، اس کی مذمت اور افسوس کرتا ہوں۔ ان حالات کا جس طرح مقابلہ کیا میں پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور مولانا فضل الرحمان کو سلام پیش کرتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button